1 نومبر، 2026، 8:35 AM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

امریکی انتخابات میں ارب پتیوں اور بڑی کمپنیوں کا بڑھتا اثر و رسوخ

امریکی انتخابات میں ارب پتیوں اور بڑی کمپنیوں کا بڑھتا اثر و رسوخ

امریکہ میں 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے دوران اربوں ڈالر کی مالی معاونت نے انتخابی عمل میں دولت مند افراد اور بڑی کمپنیوں کے اثر و رسوخ کو نمایاں کر دیا ہے، جس سے سیاسی مساوات اور جمہوریت کے دعوؤں پر نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک، امریکی انتخابی نظام میں اگرچہ ہر شہری کو ایک ووٹ ڈالنے کا برابر حق حاصل ہے، تاہم انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت تمام شہریوں کو یکساں حاصل نہیں۔ ارب پتی افراد، بڑی کمپنیاں اور معاشی گروہ بھاری رقوم خرچ کرکے انتخابی مہمات، امیدواروں کی تشہیر اور سیاسی ترجیحات کے تعین میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

امریکی ادارے پبلک سٹیزن کی 27 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، 500 سے زائد ایسے عطیہ دہندگان، جن میں سے ہر ایک نے سپر پی اے سی کو کم از کم 10 لاکھ ڈالر دیے، مجموعی طور پر تقریباً 4.2 ارب ڈالر فراہم کیے ہیں۔ یہ رقم ان کمیٹیوں کے مجموعی مالی وسائل کا 70 فیصد سے زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ایلون مسک نے 2026 کے انتخابی دور میں سپر پی اے سی کو تقریباً 445 ملین ڈالر فراہم کیے ہیں۔ اس طرح ایک ارب پتی شخص اپنی مالی طاقت کے ذریعے امیدواروں اور سیاسی دھڑوں کی حمایت میں غیر معمولی کردار ادا کر سکتا ہے۔

برینن سینٹر فار جسٹس کے جائزے کے مطابق، 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں 40 بڑے عطیہ دہندگان اکتوبر کے وسط تک 2.4 ارب ڈالر سے زیادہ سیاسی مقابلوں کے لیے فراہم کر چکے تھے۔ یہ رقم افراط زر کو مدنظر رکھتے ہوئے 2022 کے وسط مدتی انتخابات میں بڑے عطیہ دہندگان کی مجموعی مالی معاونت سے 50 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔

بڑی کمپنیوں کی انتخابی سرمایہ کاری

پبلک سٹیزن کی 29 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، 2026 کے وفاقی انتخابی مقابلوں میں منافع بخش کمپنیوں کی جانب سے سپر پی اے سی اور متعلقہ سیاسی کمیٹیوں کو تقریباً 737.3 ملین ڈالر فراہم کیے گئے ہیں، جو 2024 کے صدارتی انتخابات میں کمپنیوں کے اخراجات سے 60 فیصد زیادہ ہیں۔

رمزارز، آن لائن شرط بندی اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں، بالخصوص مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز سے وابستہ اداروں نے مجموعی طور پر تقریباً 391 ملین ڈالر انتخابی سرگرمیوں کے لیے مختص کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، صرف ٹرمپ کے سیاسی دھڑے سے وابستہ ایک سپر پی اے سی کو کمپنیوں کی جانب سے تقریباً 141 ملین ڈالر موصول ہوئے ہیں۔

کمپنیوں کی یہ سرمایہ کاری محض انتخابی امیدواروں کی حمایت تک محدود نہیں بلکہ ٹیکسوں، ٹیکنالوجی کے ضوابط، رمزارز، توانائی اور سرکاری معاہدوں سے متعلق پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کا حصہ بھی ہے۔

سپر پی اے سی؛ دولت سے سیاسی اثر و رسوخ تک

سپر پی اے سی امریکی انتخابی نظام میں مالی اثر و رسوخ کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ یہ کمیٹیاں افراد، کمپنیوں اور مزدور یونینوں سے لامحدود مالی عطیات وصول کرکے امیدواروں کی حمایت یا مخالفت میں آزادانہ تشہیری مہم چلا سکتی ہیں، تاہم قانونی طور پر انہیں امیدواروں یا ان کی انتخابی مہمات کے ساتھ رابطہ کاری کی اجازت نہیں ہوتی۔

اس نظام کو 2010 میں امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے سٹیزنز یونائیٹڈ سے تقویت ملی، جس کے نتیجے میں انتخابات کے سلسلے میں کمپنیوں اور یونینوں کے آزادانہ اخراجات پر عائد سابقہ پابندیاں ختم ہوگئیں۔ اس کے بعد سیاسی مقابلوں میں بڑے مالی وسائل کی آمد کے لیے وسیع گنجائش پیدا ہوئی۔

اشتہاری نگرانی کرنے والے ادارے ایڈ امپیکٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، 27 اکتوبر تک 2025 اور 2026 کے انتخابی دور میں خریدے اور بک کیے گئے اشتہارات کی مجموعی مالیت 11.21 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی تھی، جو 2024 کے صدارتی انتخابات کے پورے انتخابی دور کے اشتہاری اخراجات سے بھی زیادہ ہے۔ اس میں انتخابی دفاتر کے اخراجات، ملازمین کی تنخواہیں اور دیگر سرگرمیاں شامل نہیں ہیں۔

جمہوریت کے دعوے اور امریکی داخلی مسائل

رپورٹ میں امریکی انتخابی نظام کے ان مالیاتی پہلوؤں کو واشنگٹن کی خارجہ پالیسی میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے دعوؤں کے تناظر میں بھی دیکھا گیا ہے۔ امریکہ طویل عرصے سے دوسرے ممالک کے سیاسی نظاموں کو جمہوریت اور آزادی کے معیارات پر پرکھتا رہا ہے اور ایران، کیوبا اور نکاراگوا سمیت متعدد ممالک پر مختلف وجوہات کی بنیاد پر پابندیاں عائد کرتا رہا ہے، جن میں جمہوریت اور انسانی حقوق سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں۔

تاہم فریڈم ہاؤس کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ کا عالمی آزادی انڈیکس میں اسکور گزشتہ سال کے 84 سے کم ہو کر 81 رہ گیا ہے۔ رپورٹ میں سیاسی تقسیم، سیاست میں دولت کے بڑھتے ہوئے کردار اور حکومتی اداروں کی کارکردگی کے مسائل کو امریکی جمہوریت کے لیے اہم چیلنج قرار دیا گیا ہے۔

پیو ریسرچ سینٹر نے اپریل 2026 کی ایک رپورٹ میں بتایا کہ فریڈم ہاؤس، وی ڈیم اور اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ، تینوں کے جائزوں میں 2025 کے دوران امریکی جمہوریت کی صورتحال کمزور ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

وی ڈیم کے مطابق، امریکہ کا لبرل جمہوریت کے اشاریے میں اسکور 0.57 تک گر گیا، جو 1965 کے بعد کم ترین سطح ہے، جبکہ اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ نے امریکہ کو 2025 کے جمہوریت انڈیکس میں ناقص جمہوریتوں کے زمرے میں شامل کیا ہے۔

سیاسی مساوات؛ امریکی جمہوریت کا بنیادی سوال

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی جمہوریت کا بنیادی مسئلہ انتخابات یا شہریوں کے حق رائے دہی کا فقدان نہیں بلکہ سیاسی عمل پر اثر انداز ہونے کے مواقع میں عدم مساوات ہے۔ ایک عام شہری جہاں صرف اپنا ایک ووٹ استعمال کرتا ہے، وہیں ارب پتی افراد اور بڑی کمپنیاں کروڑوں اور اربوں ڈالر خرچ کرکے انتخابی ماحول اور سیاسی ترجیحات کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔

جمہوریت کا حقیقی معیار صرف انتخابات کا انعقاد نہیں بلکہ تمام شہریوں کو سیاسی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے یکساں مواقع فراہم کرنا بھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، امریکہ کو دوسروں کے سیاسی نظاموں پر جمہوری معیارات کے حوالے سے سوال اٹھانے سے پہلے اپنے انتخابی نظام میں دولت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور سیاسی مساوات کے مسائل کا جائزہ لینا چاہیے۔

News ID 1942518

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha